MOJ E SUKHAN

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں
پار کیا ہے سات سمندر جانے کیوں

آنکھیں حیراں دل ویراں ہیں چہرے زرد
چیخ رہا ہے منظر منظر جانے کیوں

آنکھوں میں مظلوموں کے بس آنسو ہیں
فکر میں ہے ہر ایک ستم گر جانے کیوں

تپتی ریت جھلستے سائے تند ہوا
گھر سے نکلا موم کا پیکر جانے کیوں

پھول سا چہرہ جھیل سی اس کی آنکھیں ہیں
یاد آتا ہے مجھ کو اکثر جانے کیوں

آتے جاتے سب سے باتیں کرتا تھا
چپ بیٹھا ہے آج قلندر جانے کیوں

میری غزلیں سن کر انورؔ چاہت سے
دیکھتا ہے ہر ایک سخنور جانے کیوں

انور جمال انور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم