MOJ E SUKHAN

تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہے

غزل

تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہے
راہیں ڈھونڈے منزل پائے انساں کتنا پیارا ہے

وقت مصیبت آنسو پونچھے ہمدردی کی بات کرے
ٹوٹے دل کو آس دلائے انساں کتنا پیارا ہے

مانگے سو سو طرح معافی چھوٹی سی اک بھول کی بھی
اپنی خطاؤں پر شرمائے انساں کتنا پیارا ہے

دل کی دھڑکن دل میں سموئے گیت کی لے ایجاد کرے
محفل محفل ساز بجائے انساں کتنا پیارا ہے

لیلیٰ خود آگاہ کی دھن میں دامن پھاڑے قیس بنے
صحرا صحرا خاک اڑائے انساں کتنا پیارا ہے

لے کے حریم ناز اس کے شیریں شیریں نغموں کو
دوراںؔ کی توقیر بڑھائے انساں کتنا پیارا ہے

اویس احمد دوراں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم