MOJ E SUKHAN

تا ابد زمانے پر سلطنت ہماری ہے

تا ابد زمانے پر سلطنت ہماری ہے
دوست اور دشمن سے انسیت ہماری ہے

تم نے کیا نہیں دیکھا سرنگوں فرشتوں کو
کتنی اعلیٰ و ارفع مرتبت ہماری ہے

نور ہو جو آنکھوں میں آئے گا نظر تم کو
نوری سب جبینوں پر تمکنت ہماری ہے

خلق سے محبت ہے حُسنِ خُلق فطرت ہے
قلب کی زمینوں پر مملکت ہماری ہے

آئینے کو دیکھو گے صاف صاف کہہ دے گا
خود تمہاری آنکھوں میں منقبت ہماری ہے

حُسن کی حکومت ہے چار سو زمانے میں
ہر حسین چہرے پر مسکنت ہماری ہے

تم سمجھ نہ پاؤ گے امرِ غیب ہیں جتنے
روح میں سما جانا مکرمت ہماری ہے

جس کو چاہے دیتے ہیں عمرِ جاودانی بھی
کیا سخی تو سمجھے گا مصلحت ہماری ہے

سخی سرمست

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم