MOJ E SUKHAN

تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم

غزل

تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم
کیا بعد حشر بھی شب ہجراں ہے اور ہم

دنیا تو جانتی ہے کہ زنداں ہے اور ہم
ہم جانتے ہیں خلوت جاناں ہے اور ہم

پیری ہے اور کوشش درماں ہے اور ہم
میداں ہے اور عمر گریزاں ہے اور ہم

کس کو بھلا نصیب ہوئی ایسی سلطنت
حد خیال تک یہ بیاباں ہے اور ہم

اک نام زندگی بھی ہے قید حیات کا
تا مرگ آب و گل کا یہ زنداں ہے اور ہم

محشر ہے انتظار سوال و جواب ہے
لیکن فسانۂ غم ہجراں ہے اور ہم

لے دے کے رہ گیا ہے یہی ایک مشغلہ
فکر جواب دفتر عصیاں ہے اور ہم

بیخود موہانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم