MOJ E SUKHAN

تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہا

تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہا
آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا

میں ابوجہلوں کی بستی میں اکیلا آدمی
چاہتے تھے جو ، وہی پیغمبری کرتا رہا

نیند آجائے کسی صورت مجھے، اس واسطے
میں ، خیالِ یار سے پہلو تہی کرتا رہا

کھول کر رنگوں بھرے سندر پرندوں کے قفس
میں بہشت ِ دید کے ملزم بری کرتا رہا

جانتاتھا باغِ حیرت کے وہی ساتوںسوال
اک سفر تھا میں جسے بس ملتوی کرتا رہا

تھی ذرا سی روشنی سو احتیاطً بار بار
پوٹلی میں بند پھر میں پوٹلی کرتا رہا

سارا دن اپنے کبوتر ہی اڑا کر دل جلا
آسماں کا رنگ کچھ کچھ کانسی کرتا رہا

دیدہ ءگرداب سے پہچان کر بحری جہاز
اک سمندرگفتگو کچھ ان کہی کرتا رہا

دشت میں موجودگی کے آخری ذرے تلک
ریت کا ٹیلا ہوا سے دوستی کرتا رہا

رات کی آغوش میں گرتے رہے بجھتے رہے
میں کئی روشن دنوں کی پیروی کرتا رہا

اپنی ہٹ دھرمی پہ خوش ہوں اپنی ضد پر مطمئن
جو مجھے کرنا نہیں تھا میں وہی کرتا رہا

منصور آفاق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم