MOJ E SUKHAN

تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا

غزل

تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا
عیش و نشاط زیست کا ساماں نہیں رہا

اک ایک کر کے دل کے سب ارمان مٹ گئے
صد شکر دل میں اب کوئی ارماں نہیں رہا

فصل بہار آ کے بھی کیا گل کھلائے گی
وہ گل نہیں رہے وہ گلستاں نہیں رہا

دینے لگی ہے موت مرے در پہ دستکیں
اب زندگی کا مجھ پہ کچھ احساں نہیں رہا

ہندو بھی اپنے دھرم کے رستے سے ہٹ گئے
ایماں پرست کوئی مسلماں نہیں رہا

دیتا تھا جو حیات وفا کو تسلیاں
وہ غم بھی زندگی کا نگہباں نہیں رہا

جینے کا ولولہ ہے نہ کھٹکا ہے موت کا
اب امتیاز ساحل و طوفاں نہیں رہا

ایسا ہے کون جس کو ہمیشہ خوشی ملی
ایسا بھی کوئی ہے جو پریشاں نہیں رہا

گوہرؔ یہ اضطراب شب و روز ہے فضول
کیا اعتبار رحمت یزداں نہیں رہا

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم