MOJ E SUKHAN

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ
کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا

یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں
کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا

اذیت مصیبت ملامت بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاں
کبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا

تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے
ادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا

حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم
کھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا

شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کے
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ

کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا
یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں

کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا
اذیت مصیبت ملامت بلائیں

ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاں

کبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا
تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے

ادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا
حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم

کھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا
شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کے

کسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا
کسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا

خواجہ میر درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم