تجھے ہر دم پکاروں گی
ذرا بے چین سی ہو کر
ذرا سی دیر کو رو کر
اندھیروں میں اجالوں میں
فقط تیرے خیالوں میں
چلی آٶں گی چپکے سے
چرا لاٶں گی چپکے سے
تیرے سپنوں کے ہیرے کو
تری یادوں کے ہیرے کو
میں پھر تجھ سے نباہوں گی
تجھے میں خوب چاہوں گی
تجھے میں قید کر لوں گی
تجھے باہوں میں بھر لوں گی
تجھے باہوں میں بھر کے میں
ذرا سا قید کر کے میں
ترا صدقہ اتاروں گی
تجھے ہر دم پکاروں گی
میں دکھ سارے ہی جھیلوں گی
میں تجھ سے کھیل کھیلوں گی
کبھی چھپ جاٶں گی دل میں
کبھی آنکھوں کے اس تل میں
کبھی دھڑکن چرا لوں گی
تجھے غم سے بچا لوں گی
ترے جذبوں میں ڈھل ڈھل کر
تعی چاہت میں پل پل کر
میں پردے سب اٹھاٶں گی
تجھے جلوے دکھاٶں گی
بہک جاٶں گی سانسوں میں
تری بے چین باہوں میں
یہی میں کھیل کھیلوں گی
میں دکھ سارے ہی جھیلوں گی
نہ جیتوں گی نہ ہاروں گی
تجھے ہر دم پکاروں گی
مدیحہ شوق