MOJ E SUKHAN

تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کو

غزل

تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کو
سبھی کے سامنے اپنے گلے لگا مجھ کو

میں جانتا ہوں کہ تو اک دہکتا شعلہ ہے
تری تپش میں اگر دم ہے تو جلا مجھ کو

ہر اک نظر کو پتا ہے میں ایک پتھر ہوں
ہر ایک دل نے بنا رکھا ہے خدا مجھ کو

تری زباں پہ ہے انکار آج بھی لیکن
کچھ اور کہتی لگی ہے تری ادا مجھ کو

نہ اب رہا ہے کوئی شوق بننے ٹھننے کا
نہ اپنی اور بلاتا ہے آئینہ مجھ کو

کہیں ندی کہیں دریا کہیں سمندر ہوں
یہ نام دیتا ہے پانی کا سلسلہ مجھ کو

انہیں ہے شوق اگر آزمانے کا الفتؔ
غرور اپنی وفا پر بھی ہے بڑا مجھ کو

راکیش الفت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم