MOJ E SUKHAN

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی
خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی

جانتے ہیں کہ یقیں ٹوٹ رہا ہے دل پر
پھر بھی اب ترک یہ وحشت نہیں کی جا سکتی

حبس کا شہر ہے اور اس میں کسی بھی صورت
سانس لینے کی سہولت نہیں دی جا سکتی

روشنی کے لیے دروازہ کھلا رکھنا ہے
شب سے اب کوئی اجازت نہیں لی جا سکتی

عشق نے ہجر کا آزار تو دے رکھا ہے
اس سے بڑھ کر تو رعایت نہیں دی جا سکتی

نوشی گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم