MOJ E SUKHAN

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں

غزل

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں
زندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیں

مرکز دیدہ و دل تیرا تصور تھا کبھی
آج اس بات پہ کتنی ہنسی آتی ہے ہمیں

پھر کہیں خواب و حقیقت کا تصادم ہوگا
پھر کوئی منزل بے نام بلاتی ہے ہمیں

دل میں وہ درد نہ آنکھوں میں وہ طغیانی ہے
جانے کس سمت یہ دنیا لیے جاتی ہے ہمیں

گردش وقت کا کتنا بڑا احساں ہے کہ آج
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم