MOJ E SUKHAN

تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں

غزل

تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں
یہ مگر ترک محبت تو نہیں

میری آنکھوں میں اترنے والے
ڈوب جانا تری عادت تو نہیں

تجھ سے بیگانے کا غم ہے ورنہ
مجھ کو خود اپنی ضرورت تو نہیں

کھل کے رو لوں تو ذرا جی سنبھلے
مسکرانا ہی مسرت تو نہیں

تجھ سے فرہاد کا تیشہ نہ اٹھا
اس جنوں پر مجھے حیرت تو نہیں

پھر سے کہہ دے کہ تری منزل شوق
میرا دل ہے مری صورت تو نہیں

تیری پہچان کے لاکھوں انداز
سر جھکانا ہی عبادت تو نہیں

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم