MOJ E SUKHAN

ترا دل تو نہیں دل کی لگی ہوں

ترا دل تو نہیں دل کی لگی ہوں
ترے دامن پہ آنسو کی نمی ہوں

میں اپنے شہر میں تو اجنبی تھا
میں اپنے گھر میں بھی اب اجنبی ہوں

کہاں تک مجھ کو سلجھاتے رہو گے
بہت الجھی ہوئی سی زندگی ہوں

خبر جس کی نہیں باہر کسی کو
میں تہ خانے کی ایسی روشنی ہوں

تھکن سے چور تنہا سوچ میں گم
میں پچھلی رات کی وہ چاندنی ہوں

مرا یہ حشر بھی ہونا تھا اک دن
کبھی اک چیخ تھا اب خامشی ہوں

گزر کر نیک و بد کی ہر گلی سے
سراپا آگہی ہوں گمرہی ہوں

مرا یہ حزنیہ اس دور میں ہے
سخن تو ہوں مگر ناگفتنی ہوں

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم