MOJ E SUKHAN

ترا مزاج ہو برہم یہ کب گوارا ہے

غزل

ترا مزاج ہو برہم یہ کب گوارا ہے
یہی خوشی ہے ہماری کہ تو ہمارا ہے

یہ چاند رات یہ جگنو یہ تیری یاد کی لو
اس اہتمام محبت میں دن گزارا ہے

جو بے سبب ہی کسی اور چل پڑے ہیں ہم
تو زندگی کا بھلا کس طرف اشارہ ہے

یہ کیا ہوا ہے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا
کہ میرے ہاتھ میں جگنو ہے یا ستارہ ہے

یہ کیسی وحشت نایاب مضمر جاں ہے
ہیں پاؤں رقص میں جلتا ہوا شرارہ ہے

تپش بہت تھی تری یاد کی مگر ہم نے
تری ہی یاد سے موسم ذرا سنوارا ہے

میں دشمنوں کو کبھی معاف کر نہیں پائی
مگر خدا کی خدائی نے دل نکھارا ہے

وہ کس کمال سے مجھ کو بدل رہا ہے غزلؔ
محبتوں کا یہی ایک استعارہ ہے

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم