MOJ E SUKHAN

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو
جو ہو سکے یہ تماشا نہ تو دکھا مجھ کو

کبھی تو کوئی فلک سے اتر کے پاس آئے
کبھی تو ڈسنے سے باز آئے فاصلہ مجھ کو

تلاش کرتے ہو پھولوں میں کیسے پاگل ہو
اڑا کے لے بھی گئی صبح کی ہوا مجھ کو

کسے خبر کہ صدا کس طرف سے آئے گی
کہاں سے آ کے اٹھائے گا قافلہ مجھ کو

مرا ہی نقش قدم تھا مرے تعاقب میں
وگرنہ لاکھ بلاتی تری صدا مجھ کو

سمیٹتا رہا خود کو میں عمر بھر لیکن
بکھیرتا رہا شبنم کا سلسلہ مجھ کو

گھلی جو رات کی خوشبو تو سازشی جاگے
دہکتی آنکھوں نے گھیرے میں لے لیا مجھ کو

ٹھہر سکی نہ اگر چاندنی تو کیا غم ہے
یہی بہت ہے کہ تو یاد آ گیا مجھ کو

وزیر آغا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم