MOJ E SUKHAN

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں

لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں

۔

حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر

بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں

۔

ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے

وا کر سکا مگر لب گویا نہ تو نہ میں

۔

نوحے فصیل ضبط سے اونچے نہ ہو سکے

کھل کر دیار سنگ میں رویا نہ تو نہ میں

۔

جب بھی نظر اٹھی تو فلک کی طرف اٹھی

بر گشتہ آسمان سے گویا نہ تو نہ میں

خالد احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم