MOJ E SUKHAN

تری آنکھ کا جب اشارہ ملا

غزل

تری آنکھ کا جب اشارہ ملا
مری کشتیوں کو کنارا ملا

وہ اک شخص ہم سے جُدا ہوگیا
وہ اک شخص جو سب سے پیارا ملا

مری روح تک وہ اُتر سا گیا
مری زندگی کو سہارا ملا

مری ہر خوشی اُس پہ قربان ہے
خوشی یہ مجھے غم تمھارا ملا

ملن کے سبھی راستے بند ہیں
وہ نقویؔ نہ مجھ کو دوبارہ ملا

سیدہ معظمہ نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم