MOJ E SUKHAN

تری محفل سے جب اٹھ کر ترا دیوانہ آتا ہے

غزل

تری محفل سے جب اٹھ کر ترا دیوانہ آتا ہے
کبھی تعظیم کو کعبہ کبھی بت خانہ آتا ہے

کیا کرتے ہیں فرزانے بھی اٹھ کر احترام اس کا
تمہاری بزم میں جب بھی کوئی دیوانہ آتا ہے

ہوس والے تری محفل میں کب تک بیٹھ سکتے ہیں
وہ اٹھ جاتے ہیں سوئے شمع جب پروانہ آتا ہے

دکھا دیتا ہے طوفاں سب کو دریائے حقیقت کا
کبھی جب موج پر اپنی ترا دیوانہ آتا ہے

خدا کو بے خبر اپنی اسیری سے کہوں کیوں کر
قفس میں مجھ سے پہلے میرا آب و دانہ آتا ہے

ہمارے منہ سے کیا کیا بے تکلف پھول جھڑتے ہیں
زباں پر جب کبھی ذکر رخ جانانہ آتا ہے

اسے چھوڑے ہوئے مدت ہوئی ہے اے حرم والو
نہ جانے یاد اب تک کیوں مجھے بت خانہ آتا ہے

تری محفل میں سب اے شمع آتے ہیں تماشائی
عقیدت سے کوئی آتا ہے تو پروانہ آتا ہے

ہماری بادہ خواری بھی ہے ساحرؔ رشک کے قابل
نہ پہنچیں ہم اگر چل کر یہاں مے خانہ آتا ہے

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم