MOJ E SUKHAN

تری محفل میں سوز جاودانی لے کے آیا ہوں

تری محفل میں سوز جاودانی لے کے آیا ہوں
محبت کی متاع غیر فانی لے کے آیا ہوں

میں آیا ہوں فسون جذبۂ دل آزمانے کو
نگاہ شوق کی جادو بیانی لے کے آیا ہوں

میں آیا ہوں سنانے قصۂ غم سرد آہوں میں
ڈھلکتے آنسوؤں کی بے زبانی لے کے آیا ہوں

میں تحفہ لے کے آیا ہوں تمناؤں کے پھولوں کا
لٹانے کو بہار زندگانی لے کے آیا ہوں

بیاں جس کو کیا کرتی تھیں میری ناتواں نظریں
وہی درد محبت کی کہانی لے کے آیا ہوں

اگرچہ عالم فانی کی ہر اک چیز فانی ہے
مگر میں ہوں کہ عشق جاودانی لے کے آیا ہوں

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم