تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے
کہیں شراب مری زندگی نہ بن جائے
کبھی کبھی تو اندھیرا بھی خوبصورت ہے
ترا خیال کہیں روشنی نہ بن جائے
بھڑک نہ جائے کہیں شمع علم و دانش بھی
جنوں جنوں ہی رہے آگہی نہ بن جائے
میں ڈر رہا ہوں کہاں تیرا سامنا ہوگا
ترا وجود ہی میری کمی نہ بن جائے
ترے بغیر زمانے کو منہ دکھا نہ سکوں
یہ زندگی کہیں شرمندگی نہ بن جائے
جہاں میں ہے کہ کمیں گاہ میں خدا جانے
اب اس قدر بھی سبک آدمی نہ بن جائے
یہ وہم دل کو ستاتا ہے رو بہ رو تیرے
یہ تیری دید کہیں آخری نہ بن جائے
طرب کی بزم میں کم کم فسردگی اے شاذؔ
کہیں مزاج کی افتاد ہی نہ بن جائے
شاذ تمکنت