MOJ E SUKHAN

ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا

ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا
میں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا

اسی کے وار نے ہشیار تر کیا مجھ کو
مرا عدو ہی مری تیغ اجالنے آیا

میں گر چکا تھا کہ نصرت کا رہوار لیے
مجھے مصاف سے کوئی نکالنے آیا

پھر اک رفیق ملا بے اماں مسافت میں
ہوا کا جھونکا بدن کو سنبھالنے آیا

میں شب اداس بہت تھا تو مہرباں موسم
گلے میں بازوئے مہتاب ڈالنے آیا

عرفان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم