MOJ E SUKHAN

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا
کوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا

مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنی
سو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا

مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئے
کسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا

مجھے چال چلنے میں دیر ہو گئی اور میں
کوئی ایک مہرہ ادھرادھر نہیں کر سکا

کئی پیکروں کو مرے خیال نے شکل دی
جنہیں رونما مرا کوزہ گر نہیں کر سکا

مرے آس پاس کی مفلسی مری معذرت
ترا انتظام میں اپنے گھر نہیں کر سکا

اظہر فراغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم