MOJ E SUKHAN

ترے خیال کے صدقے یہ کیا مقام آیا

غزل

ترے خیال کے صدقے یہ کیا مقام آیا
کبھی حیات کبھی موت کا پیام آیا

ترا خیال مرا سوز آرزوئے سحر
کوئی تو تھا شب فرقت جو دل کے کام آیا

کسی امید کا مارا دکھائی دیتا تھا
وہ خوش نصیب پرندہ جو زیر دام آیا

کسی کے خط میں کہیں ذکر تک نہ تھا اس کا
وہ اک پیام خصوصی جو دل کے نام آیا

نہ پوچھ کتنی حیات آفریں ہے راہ وفا
سنا ہے دلؔ بھی اسی مرحلے میں کام آیا

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم