MOJ E SUKHAN

تسلسل سے گماں لکھا گیا ہے

تسلسل سے گماں لکھا گیا ہے
یقیں تو ناگہاں لکھا گیا ہے

مکمل ہو چکی قرأت فضا کی
پرندے اور دھواں لکھا گیا ہے

مرا دو پل ٹھہر کر سانس لینا
سر آب رواں لکھا گیا ہے

اگائے گی ستارے اب یہ مٹی
زمیں پر آسماں لکھا گیا ہے

کتاب غیب پڑھتا جا رہا ہوں
مرا ہونا کہاں لکھا گیا ہے

نہیں لکھا گیا کاغذ پہ کچھ بھی
فقط آئندگاں لکھا گیا ہے

دانیال طریر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم