MOJ E SUKHAN

تشنگی دل کی بجھانا تو خبر کر دینا

غزل

تشنگی دل کی بجھانا تو خبر کر دینا
اشک آنکھوں میں چھپانا تو خبر کر دینا

ہم نے کچھ گیت لکھے ہیں جو سنانا ہیں تمہیں
تم کبھی بزم سجانا تو خبر کر دینا

حادثے راہ محبت کا مقدر ٹھہرے
جب ہمیں دل سے بھلانا تو خبر کر دینا

جن کتابوں میں چھپائے ہیں مرے خط تم نے
ان کتابوں کو جلانا تو خبر کر دینا

آج بیگانہ سمجھتے ہو تو سمجھو لیکن
جب ستائے یہ زمانہ تو خبر کر دینا

میں ضرور آؤں گا منصورؔ تمہاری خاطر
تم جو مقتل کو سجانا تو خبر کر دینا

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم