تصورات میں وہ بے قرار آتے ہیں
وہ ایک بار نہیں بار بار آتے ہیں
کلی کلی بھی چٹک کر پیام دیتی ہے
وہ اپنے ساتھ لیے کل بہار آتے ہیں
خدا ہی جانے محبت میں تیرے دیوانے
شبِ فراق کہاں پر گزار آتے ہیں
چمن میں عشق و محبت کے ہم نے دیکھا ہے
ابھی وفا کے ثمر داغ دار آتے ہیں
جو ہم کلام بھی ہوتے ہیں بے نیازی سے
بدل کے چہرے وہی غم گسار آتے ہیں
رواج کیسا ہے قیصر کسی کی محفل کا
جو مسکراتے گئے سوگوار آتے ہیں
رانا خالد محمود قیصر