MOJ E SUKHAN

تصورات میں وہ بے قرار آتے ہیں

تصورات میں وہ بے قرار آتے ہیں
وہ ایک بار نہیں بار بار آتے ہیں

کلی کلی بھی چٹک کر پیام دیتی ہے
وہ اپنے ساتھ لیے کل بہار آتے ہیں

خدا ہی جانے محبت میں تیرے دیوانے
شبِ فراق کہاں پر گزار آتے ہیں

چمن میں عشق و محبت کے ہم نے دیکھا ہے
ابھی وفا کے ثمر داغ دار آتے ہیں

جو ہم کلام بھی ہوتے ہیں بے نیازی سے
بدل کے چہرے وہی غم گسار آتے ہیں

رواج کیسا ہے قیصر کسی کی محفل کا
جو مسکراتے گئے سوگوار آتے ہیں

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم