MOJ E SUKHAN

تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں

غزل

تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں
منزل پر ہی نظر ہے میری رستوں کی پرواہ نہیں

اس کو کیا معلوم کہ صدیاں لمحوں سے ہی بنتی ہیں
صدیوں کی ہے فکر اسے ان لمحوں کی پرواہ نہیں

اپنے پن کا مطلب بھی تو لوگوں کو معلوم نہیں
میرا اپنا وہ ہے جس کو اپنوں کی پرواہ نہیں

میں نے دل میں ٹھان لیا تھا زنجیروں کو توڑوں گی
لیکن میرے دل نے پوچھا رشتوں کی پرواہ نہیں

ہم نے کھائے زخم ولاؔ ہم ان سے دور ہی رہتے ہیں
پھولوں سے وہ کھیلے جس کو کانٹوں کی پرواہ نہیں

ولاء جمال العسیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم