غزل
تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں
منزل پر ہی نظر ہے میری رستوں کی پرواہ نہیں
اس کو کیا معلوم کہ صدیاں لمحوں سے ہی بنتی ہیں
صدیوں کی ہے فکر اسے ان لمحوں کی پرواہ نہیں
اپنے پن کا مطلب بھی تو لوگوں کو معلوم نہیں
میرا اپنا وہ ہے جس کو اپنوں کی پرواہ نہیں
میں نے دل میں ٹھان لیا تھا زنجیروں کو توڑوں گی
لیکن میرے دل نے پوچھا رشتوں کی پرواہ نہیں
ہم نے کھائے زخم ولاؔ ہم ان سے دور ہی رہتے ہیں
پھولوں سے وہ کھیلے جس کو کانٹوں کی پرواہ نہیں
ولاء جمال العسیلی