چمن میں اسکے ہی انفاس کی حرارت سے
گلوں میں رنگ ہے کلیوں میں تازگی ہے مدام
وہ بادلوں کا نگر ہے جہاں وہ رہتی ہے
ہوائیں اس سے ہی لیتی ہیں آکے اذنِ خرام
ردائے سبزہ پہ شبنم کے نقرئی موتی
وہ آکے چاندنی شب میں انڈیل جاتی ہے
اسی کے گالوں کی لالی بشکلِ رنگِ شفق
افق پہ شام کی نگری میں پھیل جاتی ہے
وہ لہلہاتی ہے جب بھی فضا میں آنچل کو
گلوں میں خوشبو اسی دم اتر کے آتی ہے
ٹھہر سے جاتے ہیں نجم وقمر بھی اپنی جگہ
وہ جب بھی سرخ قبا میں سنور کے آتی ہے
چلے چلو! کہ قریب آگئی ہے اب منزل
بہشتِ جان غزل بھی دکھائی دینے لگی
فضا کی نبض پہ رکھی جو انگلیاں میں نے
تو اسکے دل ہی کی دھڑکن سنائی دینے لگی
اسے تلاشنے آیا ہوں بادلوں کے نگر
کہ جس سے زیست کے آنگن میں کھیلتی ہے بہار
زہے! کہ نقش کف پا بھی مل گیا مجھکو
خوشا! کہ مل ہی گئی ہے مجھے وہ راہگزار !
چلے چلو! کہ محبت کو عام کرنا ہے
بہشتِ جانِ غزل میں قیام کرنا ہے
________ ثمر خانہ بدوش