تلاش نعت کی سینے میں جستجو رکھ لی
وفور مدحت سرور نے آبرو رکھ لی
دل و دماغ معطر مشام جان عبیر
در رسول سے پلٹے تو اس کی بو رکھ لی
کبھی ہوا تھا کرم پائے ناز پر بوسہ
سو ہم نے قلب میں تصویر ہو بہ ہو رکھ لی
کھلیں گے جس پہ سدا غنچہ ہائے مدح نبی
ازل میں ہم نے وہ اک شاخ آرزو رکھ لی
ازل میں لٹنے لگے جب خزائن فطرت
تو جنس عشق نبی ہم نے با وضو رکھ لی
شراب عشق محمد کی بات جب آئی
اٹھا کے دوش پہ خم فرق پر سبو رکھ لی
برائے ذکر نبی ہم نے رب کی مرضی سے
قلم زبان دہن شان گفتگو رکھ لی
در نبی پہ کہیں ہم نے بے حساب نعوت
برائے مدحت سرور رگ نمو رکھ لی
شفیع روز جزا کی شفاعت کبریٰ
عطا ہو اس لئے طبیعت ہی حیلہ جو رکھ لی
کہا کہ عہد رواں میں غلام ہیں کتنے
تو ہم نے اپنی ہی تصویر کو بکو رکھ لی
نہ جانے کون سے رستے سے ہو گزر ان کا
یہ بات سوچ کے بینائی سو بہ سو رکھ لی
کسی کی ایڑی رگڑ نے سے آب ہو جاری
مرے رسول نے ہاتھوں میں موج جو رکھ لی
جہاں میں ختم نبوت کی پاسداری کو
ملا جو اذن تو بڑھ کر رگ گلو رکھ لی
دروغ باف نبوت کی قوم کاذب پر
جو برق بن کے گرے اس طرح کی خو رکھ لی
برائے صبح قیامت جناب ثاقبؔ نے
غزل کو ترک کیا نعت مشک بو رکھ لی
ثاقب خیرآبادی