MOJ E SUKHAN

تماشا گر نے بھی کیا تماشا لگا دیا ہے

تماشا گر نے بھی کیا تماشا لگا دیا ہے
جو تیغ زن تھے انھیں کھلونا بنا دیا ہے

ہمارے کاندھوں پہ کس نے کرگس بٹھا دیے ہیں
ہمارے سر سے ہُما کو کس نے اڑا دیا ہے

یہ کس نے صبح و صبا کی خوشبو کا رستہ روکا
یہ کس نے اڑتے دھوئیں کے پیچھے لگا دیا ہے

ہمیں خبر، تم شکاریوں سے ملے ہوئے تھے
شجر میں بیٹھا ہوا پرندہ اڑا دیا ہے

ہمیں یہ دکھ ہے کہ خوش گمانی کا کانچ بکھرا
جو دیکھنا ہم نہ چاہتے تھے دِکھا دیا ہے

میں تیرے صدقے، میں تیری چارہ گری کے صدقے
جو ہنستا بستا تھا شہر اُس کو رلا دیا ہے

وہاں پہ بونوں کی صف تھی اور سرکشیدہ میں تھا
جو قدوقامت تھا میرا کتنا گھٹا دیا ہے

قیوم طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم