MOJ E SUKHAN

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

غزل

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر
وفا کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر

جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا
کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر

وہ ذوق فن ہو کہ شاخ چمن کہ خاک وطن
ہر اک کا حق ہے مرے خوں کے قطرے قطرے پر

حقیقتیں نظر آئیں تو کس طرح ان کو
تعصبات کی عینک ہے جن کے چہرے پر

چمن میں یوں تو تھے کچھ اور آشیاں لیکن
گری جو برق تو میرے ہی آشیانے پر

کرم مجھی پہ تھا سب باغبان‌ و گلچیں کا
کسی نے قید کیا اور کسی نے نوچے پر

یہ دشت حزن ہے کرب و بلا کا صحرا ہے
چلے گا کون یہاں اب وفاؔ کے رستے پر

وفا ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم