Tamam Parday Hatay to dil ruba nikla
غزل
تمام پردے ہٹائے تو دلربا نکلا
وہ ایک شخص جو غیروں سے ماورا نکلا
تیرے نصیب میں لگی تھی چاندنی راتیں
میرے نصیب کی پرچی میں کربلا نکلا۔
میں اپنے آپ سے منہ پھیرلوں بھلا کیسے
کہ گھر کے آئینے کا تم سے رابطہ نکلا۔
حبیب تو نہیں ہاں میرا رقیب سہی!
دیارِ غیر میں کوئی تو آشنا نکلا۔
کسے میں حال دل ناتواں سناؤں بھلا
تمہارے شہر کا ہر شخص بے وفا نکلا
ضرور قتل کرو اس کو ماردو لیکن
مگر یہ دیکھلو منصور سے خدا نکلا۔
کوئی جواز نہیں تھا مگر نہ جانے کیوں،
عجیب تیرے مجدد کا معاملا نکلا۔
پیر غلام مجدد سرہندی مجدد
Peer Ghulam Mujadid sarhandi