MOJ E SUKHAN

تمھاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی

تمھاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی
ہماری جاں پہ بن آئی ہوئی تھی

غزل پر میں غزل کہنے لگا تھا
طبیعت موج میں آئی ہوئی تھی

وہ خود ملنے چلا آیا تھا جس نے
نہ ملنے کی قسم کھائی ہوئی تھی

بچھڑ کر کس طرح ملنا ہے ہم نے
اُسے یہ بات سمجھائی ہوئی تھی

یوں ہی اک روز وہ بازار آیا
پھر اس کے بعد مہنگائی ہوئی تھی

ناز مظفرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم