MOJ E SUKHAN

تمھارے بعد جینے کا ارادہ اُور کرتے ہیں

تمھارے بعد جینے کا ارادہ اُور کرتے ہیں
نئی ترتیب سے خود کو نکھارا اور کرتے ہیں

وہ راہیں چھوڑ دو جس پر تمھیں منزل نہیں ملتی
چلو اٹھو کوئی روشن ستارا اور کرتے ہیں

بہت تنہائی میں ڈھونڈا یہاں خود کو مگر پھر بھی
جہاں غم ہو وہاں خود کو پکارا اُورکرتے ہیں

میں لہجوں کے بدلتے رنگ سے واقف تو ہوں لیکن
برائے نام چاہت پر گزارا اوشاعر کرتے ہیں

بہت کوشش رہی ان کو ستارے ٹوڑ لانے کی
زمیں پر آسماں لیکن اتارا اور کرتے ہیں

ردا یوں ہے نہیں بدلا مرے دل کا کبھی موسم
یقیں جانو ! تو اس دل کو تمھارا اور کرتے ہیں

ردا فاطمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم