MOJ E SUKHAN

تمھارے رنگ میں کچھ اس طرح سماتی رہی

تمھارے رنگ میں کچھ اس طرح سماتی رہی
کہ آئینے میں تمھارا ہی عکس پاتی رہی

یہ سوچ کر وہاں  شاید  مجھے ملے انعام
یہاں پہ زخم ملا بھی تو مسکراتی رہی

نظر فلک پہ رہی پھر بھی  دل سجود میں تھا
میں اس طرح بھی ترے در پہ سر جھکائی رہی

تمھارا ساتھ ملا مجھ کو ایک ایک قدم
صحیفے تیری ہدایت کے روز پاتی رہی

ہر ایک روپ میں  جب تو ہی تو نظر آیا
تو بے خطر میں  عبادت گھروں  میں  جاتی رہی

جو یہ سمجھتے ہیں تو اک جگہ پہ ہے محدود
میں  انکی تنگ نگاہی پہ حیف کھاتی رہی

تمھارے جلوے ہی بکھرے ہوئے ہیں چاروں طرف
یہ میں کہ دید کی حسرت میں  دل جلاتی رہی

ملا ہے آج تو میرے ہی دل کی دھڑکن میں
میں انتظار کی زحمت یو نہی اٹھاتی رہی

تمھاری چاہ محبت کی جنگ میں  رضیہ
قدم قدم پہ مرا حوصلہ بڑھاتی رہی

رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم