MOJ E SUKHAN

تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں

تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
اکیلے جی لوں زباں پہ اپنی قفل لگاؤں
کبھی اکیلے نہ گنگناؤں
میں سج سنور کے تمہاری خاطر
میں روز تم کو سُخن سناؤں
چلو یہ مانا؛ چلو یہ۔ مانا
میں سب کروں گی تمہارے کہنے پہ میں چلوں گی
مگر بتاؤ کہ مری خاطر نظر جھکا کہ کیا تم چلو گے؟
بتاؤ ناں! تم یہ کر سکو گے؟
کسی حسینہ کو راہ چلتے نہیں تکو گے؟
کہو ناں یہ اب نہیں تکوں گا!
کبھی تمہاری کوئ پرانی مزاج یکساں سا رکھنے والی
کوئ پڑوسن ملے کہیں تو نہیں رکو گے
یہ زندگی میں جو ابتری ہے یہ کام سارا جو دفتری ہے
اگر میں تھوڑی خفا ہوئی تو یہ رک سکے گا؟
تو میری خاطر! دو چار دن ہی! بتاؤ ناں! کیا یہ چھوڑ دو گے؟
یہ سانسیں میری،یہ میری نیندیں یہ میری نیت,
مرے ارادے کبھی کےتم کو یہ سونپ ڈالے
چلو اگر یہ تمہاری ضد ہے! شناختیں بھی میں سونپ دوں گی!
مگر بتاؤ ! تمہارے دن رات کی لگن میں
میں کس قدر حصہ دار ٹھہری
تمہاری سانسوں تمہارے جذبوں تمہاری خواہش
تمہارے پیسوں میں میں کہاں ہوں
یہ زندگی میں جو ابتری ہے یہ کام سارا جو دفتری ہے
جو ماہ چاہت کا فروری ہے
کیا مجھ کو اِن سب پہ برتری ہے؟
یا سارے جذبے یہ پیار چاہت یہ مسکراہٹ
ہےسب حقیقت یا سرسری ہے؟؟

تاجورشکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم