MOJ E SUKHAN

تمہاری قید وفا سے جو چھوٹ جاؤں گا

تمہاری قید وفا سے جو چھوٹ جاؤں گا
ازل سے لے کے ابد تک میں ٹوٹ جاؤں گا

خبر نہیں ہے کسی کو بھی خستگی کی مری
مجھے نہ ہاتھ لگاؤ کہ ٹوٹ جاؤں گا

تمہاری میری رفاقت ہے چند قوموں تک
تمہارے پاؤں کا چھالا ہوں پھوٹ جاؤں گا

ہزار ناز سہی مجھ کو اپنی قسمت پر
حنائے دست نگاریں ہوں چھوٹ جاؤں گا

تمہاری بزم سے اٹھ کر یہ وعدہ کرتا ہوں
جہاں بھی جاؤں گا اب جھوٹ موٹ جاؤں گا

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم