MOJ E SUKHAN

تمہارے حسن کو داد جمال دی میں نے

غزل

تمہارے حسن کو داد جمال دی میں نے
کھلا جو پھول تمہاری مثال دی میں نے

کشاں کشاں مری منزل پہ آ رہا ہے کوئی
کسی کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی میں نے

نہ کجروی کی شکایت نہ بے رخی کا گلہ
جو دل میں تھی وہ توقع نکال دی میں نے

عجیب کشمکش گو مگو سے گزرا ہوں
چھڑا جو ذکر ترا بات ٹال دی میں نے

دعائیں دے مجھے شعر و سخن کے سانچے میں
کہاں کہاں تری تصویر ڈھال دی میں نے

میں بزمؔ سوز تغافل سے جل بجھا لیکن
اسے نہ زحمت فکر و خیال دی میں نے

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم