غزل
تمہارے حسن کو داد جمال دی میں نے
کھلا جو پھول تمہاری مثال دی میں نے
کشاں کشاں مری منزل پہ آ رہا ہے کوئی
کسی کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی میں نے
نہ کجروی کی شکایت نہ بے رخی کا گلہ
جو دل میں تھی وہ توقع نکال دی میں نے
عجیب کشمکش گو مگو سے گزرا ہوں
چھڑا جو ذکر ترا بات ٹال دی میں نے
دعائیں دے مجھے شعر و سخن کے سانچے میں
کہاں کہاں تری تصویر ڈھال دی میں نے
میں بزمؔ سوز تغافل سے جل بجھا لیکن
اسے نہ زحمت فکر و خیال دی میں نے
بزم انصاری