Tumharay Qurb Kay lamhay gulab lamhay they
غزل
تمہارے قرب کے لمحے گلاب لمحے تھے
جو چکھ کے دیکھا سبھی تو شراب لمحے تھے
تمہارا ہاتھ تھا جب ہاتھ میں صنم اس پل
نجانے کتنے حسیں ہم رکاب لمحے تھے
محل تھے خوابوں کے ہر اک طرف حسیں جاناں
بڑے بلند وہ عالی جناب لمحے تھے
وہ سرمئی گھنے بادل تھے پاس ہی میرے
نظر میں بس گئے تھے جو وہ خواب لمحے تھے
بھٹک بھٹک کے نظر لوٹ آئی جب واپس
وہ کہر سے بھرے دن اور سراب لمحے تھے
صنم قسم تمہیں دی دیر مت ذرا کرنا
کہ چھوٹے دن تھے مگر بے حساب لمحے تھے
وہ روشنی بھری آنکھیں کشش سے پر فہمی
چراغ دن تھے سبھی آفتاب لمحے تھے
فریدہ عالم فہمی
Fareeda Aalam Fehmi