MOJ E SUKHAN

تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہے

غزل

تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہے
مگر یہ لمحہ بڑا کامیاب لگتا ہے

میں اپنے یار کی تاب و تپش بتاؤں کیا
زمیں پہ اترا ہوا آفتاب لگتا ہے

مہک تو ہے ہی نہیں رنگ بھی عبوری ہیں
وہ دیکھنے میں سبھی کو گلاب لگتا ہے

بھلے کے کام تو ہم کرتے رہتے ہیں لیکن
نہ جانے کسی کو ہمارا ثواب لگتا ہے

تو چاہتا ہے کہ آکاش آئے دھرتی پر
ترا سوال مجھے لا جواب لگتا ہے

وہ راہبر ہے وہی راستہ دکھائے گا
بھٹکتے رہنا ہمیں بھی خراب لگتا ہے

میں اس کو صورت خرگاہ و خیمہ ہوں الفتؔ
مرا صنم مجھے مثل طناب لگتا ہے

راکیش الفت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم