غزل
تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہے
مگر یہ لمحہ بڑا کامیاب لگتا ہے
میں اپنے یار کی تاب و تپش بتاؤں کیا
زمیں پہ اترا ہوا آفتاب لگتا ہے
مہک تو ہے ہی نہیں رنگ بھی عبوری ہیں
وہ دیکھنے میں سبھی کو گلاب لگتا ہے
بھلے کے کام تو ہم کرتے رہتے ہیں لیکن
نہ جانے کسی کو ہمارا ثواب لگتا ہے
تو چاہتا ہے کہ آکاش آئے دھرتی پر
ترا سوال مجھے لا جواب لگتا ہے
وہ راہبر ہے وہی راستہ دکھائے گا
بھٹکتے رہنا ہمیں بھی خراب لگتا ہے
میں اس کو صورت خرگاہ و خیمہ ہوں الفتؔ
مرا صنم مجھے مثل طناب لگتا ہے
راکیش الفت