غزل
تمہیں پھیر لو گے جو ہم سے نگاہیں
ملیں گی کہاں غم زدوں کو پناہیں
بشر ناپتا ہے ستاروں کی راہیں
اسے لے نہ ڈوبیں یہ پرواز گاہیں
تلاطم سے کب ڈوبتے ہیں سفینے
اگر ڈوبتے دل ڈبونا نہ چاہیں
ٹھہرتی ہیں گل پر نہ شمس و قمر پر
نہ جانے کسے ڈھونڈھتی ہیں نگاہیں
انہیں مل گیا نام دیر و حرم کا
جو انسانیت کی ہیں قربان گاہیں
نہیں کوئی امید ہم کو وفا کی
جفا ہی سہی آپ کچھ تو نباہیں
جنوں ہی یہاں کام آئے تو آئے
بہت پر خطر ہیں محبت کی راہیں
مری کائنات محبت ہے صابرؔ
یہی چند آنسو یہی چند آہیں
صابر ابوہری