MOJ E SUKHAN

تم بھول گئے شاید

وہ جو دودھ شہد کی کھیر تھی
وہ جو نرم مثل حریر تھی

وہ جو آملے کا اچار تھا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جو ہرن کے سیخ کباب تھے
وہ جواب اپنا جواب تھے

وہ جو کوئٹہ کا انار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو سیب زینت باغ تھے

وہ جو شاخ شاخ چراغ تھے
وہ جو آلوؤں کو بخار تھا

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ رقیب کے جو بغیر تھی
وہ جو چاند رات کی سیر تھی

وہ جو عہد فصل بہار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

انور مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم