MOJ E SUKHAN

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ
کوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ

لوٹ کر اب نہ آ سکیں شاید
یہ مسافت عجب ہے مل جاؤ

دل دھڑکتے ہوئے بھی ڈرتا ہے
کتنی سنسان شب ہے مل جاؤ

اس سے پہلے نہیں ہوا تھا کبھی
دل کا جو حال اب ہے مل جاؤ

خواہشیں بے سبب بھی ہوتی ہیں
کیا کہیں کیا سبب ہے مل جاؤ

کون اب اور انتظار کرے
اتنی مہلت ہی کب ہے مل جاؤ

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم