MOJ E SUKHAN

تم مجھے پہن سکتے ہو

تم مجھے پہن سکتے ہو
کہ میں نے اپنے آپ کو
دھلے ہوئے کپڑے کی طرح
کئی دفعہ نچوڑا ہے
کئی دفعہ سکھایا ہے
تم مجھے چبا سکتے ہو
کہ میں چوسنے والی گولی کی طرح
اپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوں
تم مجھے رلا سکتے ہو
کہ میں نے اپنے آپ کو قتل کر کے
اپنے خون کو پانی پانی کر کے
آنکھوں میں جھیل بنا لی ہے
تم مجھے بھون سکتے ہو
کہ میری بوٹی بوٹی
تڑپ تڑپ کر
زندگی کی ہر سانس کو
الوداع کہہ چکی ہے
تم مجھے مسل سکتے ہو
کہ روٹی سوکھنے سے پہلے
خستہ ہو کر بھربھری ہو جاتی ہے
تم مجھے تعویذ کی طرح
گھول کر پی جاؤ
تو میں کلیساؤں میں بجتی گھنٹیوں میں
اسی طرح طلوع ہوتی رہوں گی
جیسے گل آفتاب

کشور ناہید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم