MOJ E SUKHAN

تم نے دل کے دیے بجھائے ہیں

غزل

تم نے دل کے دیے بجھائے ہیں
ہم غموں کے چراغ لائے ہیں

تم سے اب ہم گلہ کریں بھی تو کیا
ہم نے خود ہی فریب کھائے ہیں

صف بہ صف روشنی کے پردے میں
ظلمتوں کے مہیب سائے ہیں

تم نے محلوں کی روشنی کے لیے
کتنے معصوم دل جلائے ہیں

قتل جب بھی ہوئے خیال مرے
کیسے کیسے خیال آئے ہیں

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم