MOJ E SUKHAN

تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص

غزل

تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص
کوئے جاناں میں ہمارا ہے قیام مخصوص

مجتمع آج ہیں یاران سر پل سارے
خلوت خاص میں ہے مجمع عام مخصوص

جلسۂ عام میں دقت نہیں ہوتی ان کو
جو سمجھتے ہیں اشاروں میں کلام مخصوص

دل غم دیدہ ہوا ہمدم صد گونہ نشاط
آج آیا ہے جو دل بر کا پیام مخصوص

وہ مرا صبح نفس مخلص یک‌ رنگ ہوا
اب نہ وہ صبح مقرر ہے نہ شام مخصوص

خوب اعزاز گرفتار محبت کا ہوا
ان کو ہے مد نظر قید دوام مخصوص

عام سے خاص کی تمییز ہوا کرتی ہے
ہو گیا نوک زباں شوخ کو نام مخصوص

نقص یہ وضع کا ہو جائے گا داغ عصمت
کیوں وہ شب گرد ہوا ماہ تمام مخصوص

راز داں جو ہیں سمجھتے ہیں وہ یہ راز و نیاز
گفتگو خاص سے ہوتا ہے کلام مخصوص

ہے ترا بلبل کشمیر یگانہ میکش
عام ہوتا ہی نہیں شرب دوام مخصوص

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم