Tang Haalaat main Sardaar Kahan tha pehly
غزل
تنگ حالات میں سردار کہاں تھا پہلے
یہ مضافاتی گنہگار کہاں تھا پہلے
اک حسیں شخص کا رستہ یہ ہوا کرتا تھا
رونقِ شہر یہ بازار کہاں تھا پہلے
واعظِ شہر نے حوروں کا تصور ہے دیا
میں بھی جنت کا طلب گار کہاں تھا پہلے
پھر بھی کچھ لوگ محبت لیے دستک دیتے
راستہ دل کا بھی ہموار کہاں تھا پہلے
آ گہی بڑھتی گئی ساتھ پریشانی بھی
اس مصیبت میں اداکار کہاں تھا پہلے
وقت کہتا رہا کچھ مانگ مداوا میں کروں
میری کشتی کا یہ پتوار کہاں تھا پہلے
یہ کسی آنکھ سے نسبت ہے وگرنہ صابر
میں بھلا صاحبِ کردار کہاں تھا پہلے
صابر چودھری
Sabir choudhry