MOJ E SUKHAN

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر

غزل

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر
اگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کر

تو میری شام کی پلکوں سے روشنی مت چھین
جہاں چراغ جلائے وہاں دھواں مت کر

پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو سنگ ہونا ہے
ملی ہے فرصت گریہ تو رائیگاں مت کر

چھلک رہا ہے ترے دل کا درد چہرے سے
چھپا چھپا کے محبت کو داستاں مت کر

تو جاتے جاتے نہ دے مجھ کو زندگی کی دعا
میں جی سکوں گا ترے بعد یہ گماں مت کر

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم