MOJ E SUKHAN

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے
نا شناسا ہے تو پھر محرم پنہاں کیوں ہے

ہجر کے دور میں ہر دور کو شامل کر لیں
اس میں شامل یہی اک عمر گریزاں کیوں ہے

آج کی شب تو بجھا رکھے ہیں یادوں کے چراغ
آج کی شب مری پلکوں پہ چراغاں کیوں ہے

اور بھی لوگ ہیں موجود بیابانوں میں
دست وحشت میں فقط میرا گریباں کیوں ہے

دل تو مدت سے کڑی دھوپ میں جلتا ہے ظہیرؔ
آگ برساتا ہوا ابر بہاراں کیوں ہے

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم