MOJ E SUKHAN

تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا

غزل

تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا

دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا

مرزا غالب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم